ایک چھوٹی بلی کی ہمت
ایک چھوٹے سے گاؤں میں مینو نام کی ایک بلی رہتی تھی۔ مینو بہت چھوٹی اور نازک سی تھی لیکن اس کا دل ہمت سے بھرا ہوا تھا۔ گاؤں والے اسے پیار سے "چھوٹی مینو" کے نام سے پکارتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت کسی کی مدد کے لیے تیار رہتی تھی۔ مینو کا ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کا گھر گاؤں کے ایک کونے میں تھا جہاں سے جنگل شروع ہوتا تھا۔
ایک دن گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ جنگل کے دوسری طرف ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جو بہت بیمار تھی۔ بدھیا کے پاس اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا اور گاؤں والے جنگل سے خوفزدہ تھے کیونکہ وہاں بھیڑیے اور دوسرے خطرناک جانور تھے۔ مینو نے یہ سن کر اپنی ماں سے کہا، "امی، میں بدھیا کے لیے کچھ کھانا اور دوائی لے کر آؤں گی۔ وہ اکیلی ہے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے۔" امّی نے مینو کو روکتے ہوئے کہا، "مینو، جنگل بہت خطرناک ہے اور تم بہت چھوٹی ہو!" لیکن مینو نے کہا، "اگر میں ڈر گئی تو بدھیا کا کیا بنے گا؟ ہمت سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔" مینو نے ایک چھوٹی ٹوکری میں کچھ کھانا، پھول اور دوائیاں رکھی اور جنگل کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اسے ایک بھیڑیا مل گیا۔ بھیڑیے نے مینو کو دیکھا اور کہا، "چھوٹی بلی، یہ جنگل تمہارے لیے نہیں ہے، واپس جاؤ!" مینو نے ہمت سے جواب دیا، "میں کسی کی مدد لینے جا رہی ہوں، اور میں نہیں رکوں گی!" مینو کی ہمت دیکھ کر بھیڑیا خاموش ہو گیا اور راستہ چھوڑ دیا۔
جنگل کے دوسرے سرے پر پہنچنے کے بعد مینو بھیڑیے کے گھر چلی گئی۔ بدھیا بہت کمزور تھی لیکن جب اس نے مینو کو دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ مینو نے بدھیا کو کھانا کھلایا، دوائیاں دیں اور اس کے گھر کو پھولوں سے سجایا۔ بدھیا نے مینو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تم چھوٹے ہو لیکن تمہاری ہمت نے میرا دل جیت لیا۔
گاؤں واپس آتے ہی مینو نے اپنی ماں کو ساری کہانی سنائی۔ گاؤں کے لوگوں نے بھی مینو کی ہمت کی تعریف کی اور اسے ’’ہمت والی بلی‘‘ کہنے لگے۔ اس دن کے بعد جب بھی گاؤں میں کوئی مسئلہ ہوتا تو لوگ مینو کو یاد کرتے اور کہتے کہ چھوٹی مینو اگر اتنی ہمت دکھا سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں